اتر پردیش میں کسان قرض معافی ایک مذاق بن کر رہ گیا


201709122106076087_yogi-government-cheated-with-formers_secvpf

لکھنؤ: اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ضلع حمیر پور کے پریشان کسان جب اپنی فصلوں کا قرض معاف کرانے انچارج وزیر منو کوری کے پاس پہنچے تو انھوں نے غریب کسانوں کوایک لاکھ روپے تک کے قرض معافی کے سرٹیفکیٹ تقسیم کئے توغریب کسان بخوشی قرض معافی کے سرٹیفکیٹ وصول کرتے رہے لیکن جب انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے سرٹیفکیٹ دیکھا تو قرض معافی کے تحت نازیبہ حرکت کی گئی تھی بایں طور کہ فصل قرض معافی کی ریاستی منصوبہ بندی سکیم کے تحت کئی کسانوں کو 10 روپے، 38 روپے، 221 روپے اور 4000 روپے کی قرض معافی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔
شانتی دیوی
جس نے فصل بوائی کے نام پر بینک سے 1 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا، لیکن اسے جو قرض معافی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ، اس میں 10روپے36پیسے کا قرض معاف کیا گیا ،ایک دوسرے کسان یونس خان، جس نے 60 ہزار روپے بیج اور کھاد کے لئے حکومت سے قرض لیا تھا، اس کامحض 38روپے کا قرضہ معاف کیا گیا،یہی حال کئی اور کسانوں کا ہے جو ایک لاکھ روپئے تک کی قرض معافی کی امید لے کر یہاں آئے تھے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی وزرا سمیت اہم پارٹی رہنما بھی شامل تھے  جس میں زیادہ تر کسانوں کا 10 روپے سے لے کر 4 ہزار روپے کا قرض معاف کیا گیا ۔
واضح رہے کہ ا تر پردیش کے ضلع بندیل کھنڈ پچھلے کئی سالوں سے قحط  زد ہ میں ہے، یہی وجہ ہے کہ   سینکڑوں مقروض کسان اب تک خودکشی کر چکے ہیں،ایسے میں یوگی حکومت نے جب قرض معافی کا اعلان کیا تو یہاں کے کسانوں کے لئے یہ کسی نعمت سے کم نہیں تھی لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اس سنگین مذاق نے سینکڑوں کسانوں میں شدید  غم
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s