رمضان کے بعد شیطان سے ملاقات


صدام حسین :  جمعرات 29 جون 2017

تم انسان میری سمجھ سے بالا ہو، ہر وہ کام کیے دیتے ہو جو میں نے تم سے کروانے کا ازل میں تہیہ کیا تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ اِس اشرف المخلوقات نامی مخلوق کے کارنامے دیکھ کر میں بھی شرمندہ ہوتا ہوں۔

کل رات گئے شہر کی ایک ویران شاہراہ پر آوارہ گردی کرتے ایک پرانی حویلی کے پاس سے گزر ہوا تو ایک نہایت پُراسرار آواز سن کر میں ٹھٹک گیا اور کان آواز پر لگا دیئے۔ لگتا تھا جیسے کوئی کتا سخت خشک ہڈی چبانے کی تگ و دو کر رہا ہے، یا کوئی مردہ خلافِ توقع چٹکٹی ہڈیوں سمیت کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ جانے میں کب سے وہاں گھوم رہا تھا، چاند کب کا بادلوں کی اوٹ میں پردہ نشین ہوچکا تھا۔ چار سو خوفناک تاریکی کی چادر تنی تھی، ایسے میں اچانک اِس پُراسرار آواز نے میرے رونگٹے کھڑے کردیئے۔

کبھی کبھار کوئی گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی گزرتی تو پُراسرار خاموشی کا طلسم چند لمحوں کے لیے ٹوٹ جاتا۔ دور کہیں کسی قصائی کے پھٹے کے نیچے سے بلند ہوتی بھوکے کتے کی درد بھری ہوک اور پھر ایک روز قبل ہونے والی بارش کے بعد نکلنے والے مینڈکوں کے ٹرانے کی آواز نے مل کر رات کی پُراسراریت کو مزید گہرا کردیا تھا۔ ماحول پر عجب پُراسراریت طاری تھی جیسے کچھ ہونے والا ہو، جیسے کسی نے شہر پر کالا جادو کردیا ہو۔

ذہن عجیب و غریب خیالات کے شکنجے میں پھنس چکا تھا کہ اچانک ایک کریہہ المنظر مخلوق میرے مدِمقابل آن کھڑی ہوئی، خوفناک اور پُر ہیبت چہرہ، بڑے بڑے کان، سر سے فارغ البال مگر کسی بُل فائٹنگ کے خوفناک سانڈ جیسے سینگ۔ اِس سے پہلے کہ میں اُلٹے قدموں بھاگتا، اُس کریہہ المنظر مخلوق کے بڑے اور بھدے ہونٹوں میں جنبش پیدا ہوئی اور اُس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی،

 ’’ڈرو نہیں، میں شیطان ہوں، شاید پہلے تم نے اصل شکل میں مجھے دیکھا نہیں اِس لیے ڈر رہے ہو، لو میں انسان کی شکل میں بدل جاتا ہوں‘‘

یہ کہہ کر وہ مخلوق ایک دراز قد آدمی کی شکل میں میرے سامنے موجود تھی۔

’’اور سناؤ کیسا گزرا آپ کا مقدس مہینہ؟‘‘ اُس نے پہلا سوال داغا۔

اُسے انسانی شکل میں دیکھ کر اور کچھ آیت الکرسی کے مسلسل ورد سے میں خود میں تھوڑی بہت ہمت مجتمع کرچکا تھا۔ لہذا اِس کے سوال پر میری رمضان میں پڑھی گئی ساری نمازیں، قرآن کی تلاوت، زہد و تقویٰ، عبادات و پارسائی انگ انگ سے کشید ہو کر یکدم میری نوکِ زبان پر آگئی، میں رمضان میں شیطان کی قید کے بعد مسلمانوں کے چاروں ہاتھوں سے نیکیاں سمیٹنے پر تقریر جھاڑنے ہی والا تھا کہ وہ بولا،

’’میں سمجھ گیا ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، میں قید تھا تو تم لوگوں نے کون سا تیر مار لیا، میں قید ہوکر بھی تم لوگوں کے درمیان ہی تھا، بلکہ اِس مہینے میں تو مجھے پہلے سی جانفشانی سے کام بھی نہیں کرنا پڑتا، تم انسانوں میں موجود میرے چیلے ہی کافی تھے۔‘‘

میں نے جواب میں کچھ بولنا چاہا تو شیطان میرا منہ کھولنے سے قبل ہی گویا ہوا کہ،آؤ تمہیں حقیقت سے آشنا کراتا ہوں، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر فضا میں بلند ہوگیا، خوف و دہشت سے میرا کلیجہ حلق میں آگیا اور مجھے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔‘

سب سے پہلے وہ مجھے ایک تاجر کی دکان پر لے گیا اور دکان کے پچھلے حصے کا منظر دِکھایا، جہاں کچھ لوگ بیٹھے مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، بیسن میں مکئی کا آٹا، اور دیگر چیزوں میں ملاوٹ میں مصروف تھے، شیطان نے کہا کہ رمضان میں یہ دھندہ کئی گنا تیز رفتاری سے جاری تھا۔

بغل والے مکان میں ایک دودھ فروش دودھ میں کھاد، سرف، لاشوں کو محفوظ کرنے والا کیمیکل اور پتا نہیں کون کون سے زہریلے اجزاء ملا کر اِس کا ذائقہ اور رنگ دوبالا کرکے قوم کی غائبانہ خدمت میں مصروف تھا۔ ساتھ والے ریڑھی بان کی بیٹی آج ہی اسپتال میں عطائی ڈاکٹر کے ہاتھوں جعلی انجکشن لگنے سے بستر مرگ پر پڑی کراہ رہی تھی۔ سب مناظر دیکھ کر میرا دل کھٹا ہوگیا اور میرے چہرے سے ٹپکتی شرمندگی شاید اِس نے بھی دیکھ لی، اُس کے ہونٹوں پر پُراسرار فاخرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

اِس چاند ماری کے بعد وہ مجھے شادی کی ایک تقریب میں لے گیا۔ میں سمجھا شاید اِس کی بھوک پھر سے چمک اُٹھی ہے، مگر یہ میری خام خیالی تھی۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی تم انسان بھی عجیب مخلوق ہو، احساس سے عاری، سنگدل، اپنی خواہشوں کے ساتھ جینے والے۔ گھر میں کھانے کو بے شک سوکھی روٹی نہ ہو مگر یہاں اِس قدر اسراف، دکھاوا، فضول خرچی بلکہ شاہ خرچی کرتے ہو کہ میں بھی شرما کر اپنے بچوں کو چھپا دیتا ہوں کہ تم لوگوں کی حرکتیں دیکھ کر بگڑ نہ جائیں۔ تم اپنی چادر میں پاؤں اتنے پھیلاتے ہو کہ سر ہمیشہ ننگا رہتا ہے یا چادر میں ہی چھید ہوجاتے ہیں۔ اِس شادی کے اجتماع کے باہر 20، 15 بھوکے کم عمر بچے نہیں دیکھے کیا؟ جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے کمر سے جا لگے ہیں۔ کوئی دو نوالے کھانا اُنہیں دینے کا روا دار نہیں مگر ضائع جی بھر کر کرتے ہیں۔ وہ فاقہ زدہ بچے یونہی دور کھڑے میل بھری سوکھی انگلیاں دانتوں میں دابے، حسرت و یاس اور ترسی نگاہوں سے اِس عظیم الشان شادی کے جشن کو دیکھ کر اپنا فاقہ زدہ پیٹ تھام کر چل دیں گے۔

یہاں سے پاس ہی ایک زاہد و عابد کا ڈیرہ تھا۔ وہ مجھے کھینچ کھانچ کر وہاں لے گیا، ڈیرے کی پیشانی پر مالک کے نام سے پہلے حاجی کے الفاظ آنکھیں چندیا رہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا کہ عبادت گزار اور پارسا حاجی صاحب کے ڈیرے پر شیطان کا کیا کام؟ مگر اِس نے میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں بڑی سی چارپائی پر شان بے نیازی سے پاؤں پسارے، سر پر حاجی صاحب کا طرہ سجائے ایک تسبیح پھیرتا شخص براجمان تھا۔

اُس کی جانب اشارہ کرکے شیطان بولا کہ حاجی صاحب کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے۔ لاکھوں میں کھیلتے ہیں، اپنے زہد و تقویٰ پر بڑا مان ہے، رمضان کا آخری عشرہ حرم شریف میں گزارتے ہیں، ہر دو سال بعد حج کو جاتے ہیں اور اب تک بلا مبالغہ سات حج اور کئی عمرے کرچکے ہیں، مگر اکلوتی بیٹی نے جائیداد میں سے اپنا جائز حصہ مانگ لیا اور یوں حاجی صاحب کی پارسائی کا بت پاش پاش ہوگیا۔ سخت ناراض ہوئے اور سالوں سے بیٹی کا منہ نہیں دیکھا مگر حج اور عمرے بدستور جاری ہیں، اِس رمضان بھی آخری عشرہ حرم شریف میں گزار کے آئے ہیں۔

اتنا کہہ کر شیطان مجھے ڈیرے سے متصل ایک بوسیدہ اور خستہ حال دیواروں والے ایک کچے اور بظاہر کھنڈر سے گھر میں لے گیا، یہ کسی بیوہ کا مکان تھا، جس کے یکے بعد دیگرے سات بیٹیاں تھیں۔ دوا کو ترستی ماں بیمار ہو کر بستر سے جا لگی تھی۔ بڑی چار بیٹیوں کے سروں میں زمانے کی گردش کیساتھ چاندی اتر رہی تھی۔ شیطان گویا ہوا کہ بھئی دیکھ لو، اِس بی بی کی بیٹیاں غربت اور کسمپرسی کی وجہ سے گھر بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں، کوئی شادی کرنے کو تیار نہیں، حاجی صاحب کو اپنے ایک آدھ حج یا عمرے کی رقم انہیں دے کر کبھی حق ہمسائیگی بھولے سے بھی ادا کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

اِس کے بعد وہ مجھے لاہور کی ایک مسجد میں لے گیا۔ اندر داخل ہونے سے تو احتراز برتا مگر مسجد کے باہر کھڑا ہوکر بتانے لگا کہ یہ جو نورانی چہرے والے امام صاحب ہیں، ابھی کل ہی عید کے چاند کے مسئلے پر ساتھ والے محلے میں مخالف فرقے سے لڑ بھڑ کر انہیں کافر، واجب القتل اور پکا بلا حسابی جہنمی قرار دے چکے ہیں۔ یہ بتانے کے بعد اچانک شیطان کہنے لگا کہ لگتا ہے بھئی مجھے تو اب ریٹائرمنٹ پر غور کرنا چاہیے! کیونکہ میرے سارے کام تو تم لوگ بخیر و خوبی انجام دے رہے ہو۔

اِس کے بعد وہ مجھے لاہور سے نکال کر کہیں لمبی پرواز پر روانہ ہوگیا۔ ہمارے نیچے میدانی علاقہ ختم ہوا تو پہاڑی علاقہ شروع ہوگیا۔ بالآخر گھنے درختوں سے گھرے ایک قطعہ زمین پر اُس نے لینڈنگ کی۔ میں نے یہ علاقہ فقط تصویروں میں دیکھ رکھا تھا۔ خوبصورت، تراوٹ بخش مناظر! پر اب تو یہ کوئی مقتل گاہ تھی۔ انسانوں کی مقتل گاہ، یہاں کچھ دِن قبل ایک قیامت گزر چکی تھی جس کے آثار اب بھی باقی تھے۔ جسموں کے چھیتھڑے اِدھر اُدھر بکھرے تھے، فضاء میں خون کی بساند اور جلے ہوئے جسموں کی بو پھیلی تھی۔ سانس لینا دشوار تھا۔ میں سمجھ گیا یہ پارا چنار تھا۔

شیطان گویا ہوا کہ بھئی دیکھ لو یہ سب مسلمان اور روزے دار تھے۔ کوئی حوروں اور جنت کی کا طالب آکر اِن کے درمیان پھٹا اور پھر چناروں کے بھی آنسو بہہ نکلے۔ بھئی تم انسان میری سمجھ سے بالا ہو، ہر وہ کام کیے دیتے ہو جو میں نے تم سے کروانے کا ازل میں تہیہ کیا تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ اِس اشرف المخلوقات نامی مخلوق کے کارنامے دیکھ کر میں بھی شرمندہ ہوتا ہوں۔ تم انسان ایک دوسرے کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہو۔

اُس کی یہ کڑوی باتیں سن کر میرے وجود کا اشرف المخلوقات کا بت دھڑام سے میرے قدموں میں آن گرا اور پاش پاش ہوگیا۔ اب جیسے ہی میں نے پلٹ کر دیکھا تو انسانیت کے ساتھ وہ بھی غائب ہوچکا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s